ایران جوہری معاہدہ: مسئلہ ہے کیا؟

ایران کے جوہری پروگرام پر دس برس سے زیادہ عرصے سے جاری مذاکرات بظاہر منگل 31 مارچ کو ختم ہو رہے ہیں۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر اتنے عرصے سے جاری مذاکرات کے اہم نکات ہیں کیا؟

دنیا کے سب سے بڑے تنازعے کا فیصلہ کن لمحہ

آنے والے وقت میں جو بھی ہوتا ہے ایران اور بین الاقوامی برادری پر اس کے اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔تہران اور مغرب کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر کشیدگی ایک طویل عرصے سے جاری ہے، تاہم اگر منگل کو کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو فریقین کے درمیان سفارتی تناؤ کم ہو سکتا ہے۔ لیکن دوسری جانب اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو یہ صورتحال بہت بگڑ سکتی ہے۔
جہاں تک خود ایران کا تعلق ہے تو اس کا کہنا ہے کہ وہ جوہری بم نہیں بنانا چاہتا، تاہم اس کا اصرار ہے کہ اسے ایک پر امن جوہری پروگرام کا حق حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ایران یہ بھی چاہتا ہے کہ ان اقتصادی پابندیوں کو اٹھایا جائے جن کی وجہ سے اس کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
کئی ممالک ایران کی نیّتوں پر اعتبار نہیں کرتے اور انھیں خوف ہے کہ پتہ نہیں ایران جوہری ہتھیاروں حاصل کرنے کے بعد دنیا کے ایک غیر مستحکم ترین خطے میں کیا کرے گا۔

تاریخ کا ادراک

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ سے امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ دنیا میں کئی ممالک ایسے ہی جن کے جوہری پروگرام چل رہے ہیں اور کم از کم آٹھ ممالک ایسے ہیں جن کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام پر اتنی پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ 18 برس تک اس نے اپنا خفیہ جوہری پروگرام جاری رکھا اور وہ جوہری اسلحے کی پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدے (این پی لای) کی خلاف ورزی کرتا رہا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف چھ قراردادیں منظور کر لیں جن کا مقصد اسے یورینیم کی افزودگی سے روکنا تھا۔
سنہ 2013 میں ایران ایک عارضی معاہدے کے تحت کچھ اقتصادی پاندیاں ہٹائے جانے کے جواب میں اپنے جوہری پروگرام کے کچھ حصے معطل کرنے پر رضامند بھی ہوگیا، لیکن یہ بات عارضی ہی تھی اور اس سے تنازع ختم نہیں ہوا۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی برادری کو یہ فکر بھی ہے اسے ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کے ممکنہ فوجی پہلوؤں کے بارے میں سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں ملے۔
ایران کہتا ہے کی اس کے معاملے میں مغرب کا معیار دوہرا ہے کیونکہ وہ ایران کے سب سے بڑے دشمن اسرائیل کے معاملے میں کچھ بھی نہیں رہا حالانکہ ساری دنیا کو یقین ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے نہ کبھی اقرار کیا ہے اور نہ ہی انکار کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ تاہم بھارت اور پاکستان کی طرح، اسرائیل نے بھی این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

اقتصادی پابندیوں نے ایران کو بہت متاثر کیا ہے

جب سے ایران کی خفیہ جوہری سرگرمیاں منظر عام پر آئی ہیں، اس وقت سے اس پر اقوام متحدہ، یورپی یونین اور کئی دیگر ممالک کی جانب سے پابندیوں کی بوچھاڑ ہو چکی ہے۔
ان پابندیوں میں ایران کو بڑے ہتھیار اور جوہری پروگرام سے متعلق ٹیکنالوجی مہیا کرنے پر پابندی، اسلحہ برآمد کرنے پر پابندی، ایران کے اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندیاں، قیمتی دھاتوں کی تجارت پر پابندی، خام تیل کی برآمد پر پابندی، بین الاقوامی بینکوں سے پیسے کی ترسیل سمیت کئی پابندیاں شامل ہیں۔
سنہ 2013 کی عارضی معاہدے کے جواب میں ان پابندیوں میں سے کچھ کمی کر دی گئی تھی جس کے جواب میں ایران سے کہا گیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی ختم کرے۔
کہا جاتا ہے کہ ان پابندیوں کی وجہ سے ایرانی ریال کی قیمت میں کمی آ گئی ہے اور ملک میں افراطِ زر میں اضافہ ہونے کی وجہ سے کھانے پینے کی بنیادی اشیاء اور ایندھن کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عام ایرانی بہت متاثر ہو رہے ہیں اور یہ خبریں بھی آتی رہی ہیں کہ لوگ حکومت کے خلاف مظاہرے بھی کرتے رہتے ہیں۔
ایران چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ کی پابندیوں بہت جلد ختم ہو جائیں، لیکن دنیا کی بڑی طاقتوں کا کہنا ہے کہ پانبندیوں میں نرمی مرحلہ وار ہونی چاہیے اور جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق مواد کی درآمد پر لگائی گئی پابندی برسوں قائم رہنی چاہیے۔

معاہدے میں تاخیر پر کچھ ممالک ناخوش

اسرائیل اور ایران کے خلیجی پڑوسی اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں ایران ایک ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب نہ ہو جائے جس کے بعد اس کے پاس جوہری بم بنانے کی کسی قسم کی صلاحیت باقی رہے۔
ایران سمجھتا ہے کہ اسرائیل کا وجود ختم ہونا چاہیے، جبکہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ ایران سے اسرائیل اور دیگر دنیا کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو متعدد مرتبہ ’ایک نہایت بُرے معاہدے‘ سے خبردار کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے ایران کے پاس ایک بھی سینٹری فیوج نہیں چھوڑنا چاہیے۔
سعودی عرب کو بھی خدشہ ہے کہ اگر کوئی مفاہمتی معاہدہ ہو جاتا ہے تو اس سے ایران کو آخر کار بم حاصل کرنے سے روکا نہیں جا سکے گا۔اس کے علاوہ سعودی عرب کو یہ فکر بھی ہے کہ اگر ایران پر پابندیاں ختم کر دی گئیں تو اس سے ایران کی ہمت بڑھ جائے گی اور وہ معاشی اور فوجی اعتبار سے مضبوط ہو جائے گا۔
یوں خطے میں امریکہ کے دونوں اہم اتحادی، اسرائیل اور سعودی عرب محسوس کرتے ہیں امریکہ ایران کے ساتہ معاہدے کو اپنے اتحادیوں کے تحفظ پر ترجیح دے رہا ہے۔

یہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوگا

کئی اعتبار سے یہ ایران کے جوہری پروگرام کا فیصلہ کن لمحہ ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں اگر 31 مارچ کو کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو تنازع ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔
31 مارچ کی ڈیڈ لائن کا مقصد ممکنہ معاہدے کے خد وخال پر اتفاق کرنا تھا جس کی بنیاد پر 31 جون تک حتمی معاہدہ طے پا سکے جس میں تمام تکنیکی تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔
اس معاہدہ کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹوں میں ایک رکاوٹ یہ ہے اس معاہدے کی مدت کیا ہوگی۔ اطلاعات ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کے نازک ترین پہلوؤں پر فریقین میں دس سال کے معاہدے پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس مدت کے ختم ہونے پر کیا ہوگا۔

Popular posts from this blog

China’s New Silk Road: What’s in it for Gilgit-Baltistan?

Tips for Job Hunting in UAE (Dubai,Sharjah, Abu Dhabi)

Call for Educational Emergency to Address Educational Crisis in District Diamer